حالات کچھ ایسے ہوئے کہ جوگی ایم بلال ایم دا منظرباز کہیں کھو سا گیا۔ اس سے پہلے کہ سب کچھ فنا ہو جاتا، میں نے رائیٹر، ٹریولر، فوٹوگرافر کہنے والے بلال کو آواز لگائی۔ لیکن اس نے بھی ایک نہ سنی۔ آخرکار ”بلال اردو والا“ کو سندیسہ بھیج دیا۔
شروع میں وہ بھی کچھ چوں چراں کرنے لگا تو میں نے کہا کہ دیکھ بھئی! بے شک تو آج کل خود ساختہ کوہِ سوز کے دامن میں پڑا ہے اور غم گیتی کے نوحہ کناں چشموں سے پانی بھر رہا ہے۔ بے شک تو الجھن نگری کے فریبی جنگلوں کے درمیاں، خود کو حقیر و لاغر سمجھ رہا ہے۔ لیکن بس اتنا سوچ کہ تو آشفتہ سر ہے اور آشفتہ سروں کا یہی تو کمال ہوتا ہے کہ ”جس حال میں جینا مشکل ہو، اس حال میں جینا لازم ہے“۔ لہٰذا اٹھ اور جشن منا کہ قومی زبان اردو کی خدمت کرتے کرتے تجھے اٹھارہ سال ہو چکے ہیں۔ اور ان اٹھارہ سال نے تجھے کیا کچھ نہیں دیا؟ ایک طرف تیرا بنایا سافٹ ویئر ”پاک اردو انسٹالر“ سکولوں کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہے تو دوسری طرف پی ایچ ڈی کے مقالہ جات میں تیری لکھی کتاب ”اردو اور کمپیوٹر“ کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو لکھنے والے ہیں، ان کی دعائیں بالواسطہ یا بلاواسطہ تجھے بھی ملتی ہیں۔ اس اردو نے تجھے اک جہاں سے ملوایا، اک دنیا کو تیرا دوست بنایا۔
بس پھر کیا تھا کہ بلال اردو والے کو عقل آنے لگی اور میں نے جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے کہا کہ دیکھ بھئی! ابھی بھی لاجکس بنا کر خود کو ہلکان کر رہا ہے کہ ایسا ہو گیا تو یہ ہو گا، ویسا ہو گیا تو وہ ہو گا۔ دیکھ لالے! اگر تم نے اوٹ پٹانگ لاجکس بنا بنا کر اپنے دماغ کا دہی کرنا ہی ہے تو پھر ایسی لاجک بنا کہ جس سے خیر جنم لے۔ ویسے بھی تیرے متحرک ہوتے ہی دوسرے بھی یعنی جوگی منظرباز اور ولاگر بلال کو بھی ہوش آ جائے گا۔
اور پھر خدا کی کرنی دیکھیں کہ ایم بلال ایم نے میری بات مان لی۔ یوں کچھ نئے پراجیکٹس بنانے اور کچھ پرانے اپڈیٹ کرنے چل دیا۔ مہینہ بھر اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے لاجکس بناتا رہا اور وہ جو پندرہ سولہ سال پہلے اس نے یونیکوڈ اردو کنورٹر بنایا تھا، اس کا جدید تقاضوں کے مطابق نیا ورژن ”یونیکوڈ ⇄ انپیج 2.0“ لانچ کر دیا۔
مجھے پوری امید ہے کہ اردو کے لیے مزید بھی کچھ نیا آئے گا اور ساتھ ساتھ فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی کے میدان میں کیمرے کے بغیر فوٹوگرافی سیکھنے یعنی ”کیمرہ سِمولیٹر“ جیسے مزید ٹولز اور ٹیوٹوریئلز آئیں گے۔ باقی رہی بات سیاحت، فوٹوز اور ویڈیوز کی تو جینے کے لیے اسے یہ تو کرنا ہی پڑے گا کیونکہ جوگی منظرباز کے پاس فی الحال یہی تو وہ سیڑھیاں ہیں کہ جن سے ”تیرا“ راستہ کھوجتا ہے۔
اگر آپ کا انپیج وغیرہ میں پبلشنگ سے کوئی لینا دینا نہیں تو پھر آپ کے لیے یہ تحریر تھی۔ جو کہ ایک خاص انسانی نفسیات کا احاطہ کرتی اور ملٹی پوٹنشلائیٹ شخصیت کی جھلک دیکھاتی ہے اور ساتھ ساتھ بتاتی ہے کہ زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ مشکلات میں ضرورت سے زیادہ پریشان ہو کر مشکل کو مزید نہ بڑھاؤ بلکہ خود کو حوصلہ دو۔ اگر پھر بھی ٹکریں ہی مارنی ہیں تو پھر اپنا سر پھوڑنے کی بجائے حالات کو ماروں۔ جب سوچ سوچ کر ”پھاوا“ ہونا ہی ہے تو پھر ایسا سوچو کہ جس سے خیر جنم لے۔
اور اگر آپ یونیکوڈ اردو اور انپیج وغیرہ میں پبلشنگ کا کام کرتے ہیں تو پھر یونیکوڈ انپیج کنورٹر آپ کے لیے ہے۔ نیا کنورٹر استعمال کریں اور اپنی رائے سے آگاہ کریں۔ اگر کہیں کوئی غلطی ہو یا آپ کسی خاص شعبے کے لیے تحاریر کنورٹ کرتے ہیں تو بتائیے گا۔ ان شاء اللہ آپ کے حساب سے کنورٹر کو اپڈیٹ کرنے کی حتی المقدور کوشش ہو گی۔

